Thursday, 17 December 2020

غیر لیں محفل میں بوسے جام کے

 






غیر لیں محفل میں بوسے جام کے

ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے

خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ

ہتکھنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو

ہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے

رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم

دھوئے دھبے جامۂ احرام کے

دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگر

یہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے

شاہ کے ہے غسل صحت کی خبر

دیکھیے کب دن پھریں حمام کے

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے