Thursday, 17 December 2020

پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

 



پھر کچھ اک دل کو بے قراری ہے

سینہ جویائے زخم کاری ہے

پھر جگر کھودنے لگا ناخن

آمد فصل لالہ کاری ہے

قبلۂ مقصد نگاہ نیاز

پھر وہی پردۂ عماری ہے

چشم دلال جنس رسوائی

دل خریدار ذوق خواری ہے

وہی صد رنگ نالہ فرسائی

وہی صد گونہ اشک باری ہے

دل ہوائے خرام ناز سے پھر

محشرستان بیقراری ہے

جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہے

روز بازار جاں سپاری ہے

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیں

پھر وہی زندگی ہماری ہے

پھر کھلا ہے در عدالت ناز

گرم بازار فوجداری ہے

ہو رہا ہے جہان میں اندھیر

زلف کی پھر سرشتہ داری ہے

پھر دیا پارۂ جگر نے سوال

ایک فریاد و آہ و زاری ہے

پھر ہوئے ہیں گواہ عشق طلب

اشک باری کا حکم جاری ہے

دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا

آج پھر اس کی روبکاری ہے

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے